اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کی آزاد تحقیقاتی کمیٹی کی نئی رپورٹ میں سامنے آنے والے نتائج جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں ایران کے خلاف فروری (اسفند) میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران امریکہ کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکی حکام اس سے قبل دعویٰ کرچکے ہیں کہ ان کی فوجی کارروائیاں مسلح تنازعات کے قوانین کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ ان کے پاس معقول وجوہ موجود ہیں کہ امریکی افواج میناب میں شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر حملے کی ذمہ دار ہیں۔ اس حملے میں 150 افراد شہید ہوئے، جن میں 120 طلبہ بھی شامل تھے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ یہ حملہ اندھا دھند نوعیت کا تھا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، اور بین الاقوامی قانون کے تحت یہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یہ حملہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر کی وہاں موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیاد پر کیا تھا، تاہم حملے سے قبل ان اطلاعات کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی۔ تحقیقاتی ماہرین نے کہا کہ ہدف سے متعلق معلومات کو اپ ڈیٹ کرنے اور اس بات کی تصدیق کرنے میں ناکامی کہ آیا یہ عمارت فوجی ہدف تھی یا نہیں، محض معمولی غفلت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون (خرداد) میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر کوئی بھی شخص ایران کے گرلز اسکول پر حملے کا ذمہ دار نہیں ہے۔
رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ میں ہونے والی ابتدائی داخلی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ہونے والے مہلک حملوں کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد ہوتی ہے۔
امریکی وزارت جنگ (پینٹاگون) نے اس کے بعد تحقیقات کی سطح بڑھا دی تھی، تاہم اب تک اپنی ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے متعلق کوئی رپورٹ جاری نہیں کی۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ میناب کا نشانہ بننے والا اسکول واضح طور پر ایک شہری مقام تھا اور انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
ماہرین نے جنوبی صوبہ فارس کے شہر لامرد میں ایک اسپورٹس کمپلیکس پر حملے کے حوالے سے بھی اسی طرح کے نتائج اخذ کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے سے رہائشی عمارتوں اور قریبی ایک اسکول کو نقصان پہنچا اور 22 شہری شہید و زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ حملہ اہداف میں تفریق کیے بغیر کیا گیا، اس لیے یہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مارچ (فروردین) میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے اس روز لامرد شہر میں کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔
آپ کا تبصرہ